صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
382. (149) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ صَلَاةَ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ غَيْرُ مُجْزِئَةٍ،
اس بات کا بیان کہ جو شخص رکوع سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا اس کی نماز کافی نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 593
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ، قَالَ: صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَحَ بِمُؤَخِّرِ عَيْنَيْهِ إِلَى رَجُلٍ لا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" . هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ
حضرت عبدالرحمان بن علی بن شیبان اپنے والد محترم سیدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ وہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے) وفد کے ایک رکن تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازا ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن انکھیوں سے ایک آدمی کو دیکھا جو رُکوع وسجود میں اپنی کمر کو سیدھا نہیں کر رہا تھا، پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل فرمالی تو ارشاد فرمایا: ”اے مسلمانوں کی جماعت، بیشک اس شخص کی نماز نہیں جو رُکوع اور سجدے میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔“ یہ احمد بن المقدم کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 593، 667، 872، 1569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1891، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 871، 1003، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16541»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 593 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 593
فوائد:
➊ (یہ احادیث دلیل ہیں کہ) رکوع میں اطمینان واجب ہے۔
اور رکوع میں طمانیت سے مقصود یہ ہے کہ رکوع کرنے والا رکوع میں کچھ دیر ٹھہراؤ پیدا کرے۔
◈ شافعی رحمہ اللہ کا بھی موقف ہے، لیکن ابوحنیفہ رحمہ اللہ رکوع میں طمانیت کے وجوب کے قائل نہیں ہیں۔ [المغني مع الشرح الكبير: 577/1]
➋ رکوع سے اٹھتے وقت اعتدال اور دو رکعتوں کے درمیان بیٹھنے میں اعتدال واجب ہے۔
سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں طمانیت واجب ہے۔
◈ شافعیہ اور جمہور علماء کا بھی مذہب ہے۔
لیکن ابوحنیفہ اور ایک قلیل گروہ اس وجوب کا قائل نہیں ہے اور یہ (مذکورہ احادیث) ابوحنیفہ کے موقف کے خلاف حجت ہیں، اور ابوحنیفہ سے (ان احادیث کا) کوئی موزوں اور صحیح جواب بن نہیں پڑا۔ [شرح النووي: 107/4]
➊ (یہ احادیث دلیل ہیں کہ) رکوع میں اطمینان واجب ہے۔
اور رکوع میں طمانیت سے مقصود یہ ہے کہ رکوع کرنے والا رکوع میں کچھ دیر ٹھہراؤ پیدا کرے۔
◈ شافعی رحمہ اللہ کا بھی موقف ہے، لیکن ابوحنیفہ رحمہ اللہ رکوع میں طمانیت کے وجوب کے قائل نہیں ہیں۔ [المغني مع الشرح الكبير: 577/1]
➋ رکوع سے اٹھتے وقت اعتدال اور دو رکعتوں کے درمیان بیٹھنے میں اعتدال واجب ہے۔
سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں طمانیت واجب ہے۔
◈ شافعیہ اور جمہور علماء کا بھی مذہب ہے۔
لیکن ابوحنیفہ اور ایک قلیل گروہ اس وجوب کا قائل نہیں ہے اور یہ (مذکورہ احادیث) ابوحنیفہ کے موقف کے خلاف حجت ہیں، اور ابوحنیفہ سے (ان احادیث کا) کوئی موزوں اور صحیح جواب بن نہیں پڑا۔ [شرح النووي: 107/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 593]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 593 in Urdu
عبد الرحمن بن علي الحنفي ← علي بن شيبان السحيمى