صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
385. (152) باب ذكر البيان أن التطبيق غير جائز بعد أمر النبى صلى الله عليه وسلم بوضع اليدين على الركبتين،
اس بات کا بیان کہ نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کے حکم کے بعد تطبیق جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 597
نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلادِ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ : أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثُمَّ إِذَا أَنْتَ رَكَعْتَ، فَأَثْبِتْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى يَطْمَئِنَّ كُلُّ عَظْمٍ مِنْكَ"
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا تو اُس نے نماز پڑھی، پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جب تم رُکوع کرو تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما کر رکھو حتیٰ کہ تیری ہڈی (رکوع میں) مطمئن ہو جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 217، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 545، 597، 638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1787، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 888، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 666، والترمذي فى (جامعه) برقم: 302، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1368، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 460، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 197، والدارقطني فى (سننه) برقم: 319، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19300»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 597 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 597
فوائد:
شافعیہ اور جمیع علماء کا موقف ہے کہ رکوع میں دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا سنت ہے اور رکوع میں تطبیق (ایک ہاتھ کی انگلیوں میں دوسرے ہاتھ کی انگلیاں ڈال کر دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھنا) مکروہ فعل ہے۔
البتہ ابن مسعود، علقمہ اور اسود رکوع میں تطبیق کے قائل ہیں، کیونکہ انہیں تطبیق کی ناسخ (حدیث سعد بن ابی وقاص) نہیں پہنچی تھی۔
نیز جمہور علماء کا موقف راجح ہے کیونکہ حدیثِ سعد میں تطبیق کی واضح تنسیخ ہے۔ [شرح النووي: 14/5]
شافعیہ اور جمیع علماء کا موقف ہے کہ رکوع میں دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا سنت ہے اور رکوع میں تطبیق (ایک ہاتھ کی انگلیوں میں دوسرے ہاتھ کی انگلیاں ڈال کر دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھنا) مکروہ فعل ہے۔
البتہ ابن مسعود، علقمہ اور اسود رکوع میں تطبیق کے قائل ہیں، کیونکہ انہیں تطبیق کی ناسخ (حدیث سعد بن ابی وقاص) نہیں پہنچی تھی۔
نیز جمہور علماء کا موقف راجح ہے کیونکہ حدیثِ سعد میں تطبیق کی واضح تنسیخ ہے۔ [شرح النووي: 14/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 597]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 597 in Urdu
يحيى بن خلاد الأنصاري ← رفاعة بن رافع الزرقي