صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
396. (163) باب فضيلة التحميد بعد رفع الرأس من الركوع
رکوع سے سراٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: Q614
مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنَّ الْإِمَامَ لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَزِيدَ بَعْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ عَلَى قَوْلِهِ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
اس دلیل کے ساتھ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جب امام سَمِعَ اللهُ لِمَن حمِده کہے تو تم ربَّنا لك الحمدُ کہو“ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ امام رکوع سے سر اٹھانے کے بعد:ربَّنا لك الحمدُ سے زائد کچھ نہیں پڑھ سکتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q614]
حدیث نمبر: 614
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى الزُّرَقِيّ حَدَّثَهُ. ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أنا رَوْحُ بْنُ عِبَادَةَ ، نا مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ الَّذِي تَكَلَّمَ آنِفًا؟"، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلا"
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُکوع سے سر اُٹھایا تو کہا: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ایک شخص نے یہ دعا پڑھی: «رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”اے ہمارے رب تیرے ہی لئے تمام تعریف ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں (تیرے لئے ہیں)“ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو پوچھا: ”ابھی ابھی کس شخص نے گفتگو کی ہے؟“اُس شخص نے عرض کی کہ میں نے کی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو جلدی کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ کون ان کلمات کو پہلے لکھے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 799، ومالك فى (الموطأ) برقم: 718، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 614، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1910، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 824، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1061، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 653، وأبو داود فى (سننه) برقم: 770، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19301»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 614 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 614
فوائد:
➊ نماز میں مذکورہ کلمات کی فضیلت کا بیان ہے اور مقتدی «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کے علاوہ بھی تعریفی کلمات کہہ سکتا ہے۔ [فتح الباري لابن رجب: 33/6]
➋ نماز میں چھینک آنے پر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا مشروع فعل ہے۔
➊ نماز میں مذکورہ کلمات کی فضیلت کا بیان ہے اور مقتدی «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کے علاوہ بھی تعریفی کلمات کہہ سکتا ہے۔ [فتح الباري لابن رجب: 33/6]
➋ نماز میں چھینک آنے پر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہنا مشروع فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 614]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 614 in Urdu
يحيى بن خلاد الأنصاري ← رفاعة بن رافع الزرقي