صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
430. (197) باب طول السجدة والتسوية بينه وبين الركوع وبين القيام بعد رفع الرأس من الركوع.
طویل سجدے، سجدے اور رکوع اور رکوع سے سراٹھانے کے بعد قیام کے درمیان برابری کا بیان
حدیث نمبر: 661
نا عُبَيْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" كَانَ قِيَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُكُوعُهُ، وَسُجُودُهُ، وَجُلُوسُهُ، لا يُدْرَى أَيَّهُ أَفْضَلُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ أَفْضَلَ: أَطْوَلُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُکوع، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قعدے میں کون سی چیز طویل ہوتی تھی یہ معلوم نہیں ہوتا تھا۔ امام ابوبکر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ افضل سے اطول (طویل ترین) مراد ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 792، 801، 820، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 471، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 610، 659، 661، 683، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1884، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1064، وأبو داود فى (سننه) برقم: 852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 279، 280، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18761»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 661 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 661
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ سجدہ میں اعتدال اور ٹھہراؤ طویل ہوتا تھا اور سجدہ میں ٹھونگے مارنا اور سجدہ میں بے اعتدالی اور جلد بازی مکروہ فعل ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ سجدہ میں اعتدال اور ٹھہراؤ طویل ہوتا تھا اور سجدہ میں ٹھونگے مارنا اور سجدہ میں بے اعتدالی اور جلد بازی مکروہ فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 661]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 661 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري