صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
435. (202) بَابُ الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ.
سجدے میں دعا مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 673
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: ثُمَّ إِذَا سَجَدَ، قَالَ فِي سُجُودِهِ:" اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَأَنْتَ رَبِّي، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے سجدے میں یہ دعا مانگی «اَللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُّ وَبِكَ امَنْتُ وَلَكَ اَسْلَمْتُ، سَجَدَوَجْهِيْ لِلَّذِيْ خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ» ”اے اللہ، میں نے تیرے لئے سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لئے مطیع و فرمانبردار ہوا اور تُو ہی میرا پروردگار ہے، میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا، اس کے کان اور آنکھیں بنائیں، بہت بابرکت ہے اللہ، بہترین صورت میں پیدا کرنے والا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، 464، 581، 584، 607، 612، 673، 723، 743، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2341، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1109، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 673 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 673
فوائد:
ان احادیثِ باب میں مذکور سجدہ کی دعاؤں کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
نیز ان میں سے کسی ایک دعا کا التزام بھی تکمیلِ سجدہ کے لیے کافی ہے۔
نیز سجدہ میں عام طلب کا حکم ہے لیکن اس اذن کے باوجود مسنون اذکار و ادعیہ کا اہتمام افضل ہے۔
ان احادیثِ باب میں مذکور سجدہ کی دعاؤں کا اہتمام مستحب فعل ہے۔
نیز ان میں سے کسی ایک دعا کا التزام بھی تکمیلِ سجدہ کے لیے کافی ہے۔
نیز سجدہ میں عام طلب کا حکم ہے لیکن اس اذن کے باوجود مسنون اذکار و ادعیہ کا اہتمام افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 673]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 673 in Urdu
عبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي