صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
470. (237) باب إباحة الاقتصار على تسليمة واحدة من الصلاة،
نماز میں صرف ایک طرف سلام پھیرنے پر اکتفا کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 732
نا نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَائِشَةَ : " تُسَلِّمُ وَاحِدَةً" . نا بُنْدَارٌ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ، بِهَذَا مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَلا تَلْتَفِتُ عَنْ يَمِينِهَا وَلا، عَنْ شِمَالِهَا
حضرت قاسم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک سلام پھیرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ اپنے استاد محترم جناب بندار کی سند سے سیدنا عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت بیان کرتے ہیں، اور اس میں یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ اور وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سلام پھیرتے وقت اپنی دائیں اور بائیں جانب التفات نہیں کرتی تھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 730، 732، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3035، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 3090»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر | ثقة حافظ | |
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله عائشة بنت أبي بكر الصديق ← محمد بن بشار العبدي | صحابي | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 732 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 732
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز ختم کرنے کے لیے ایک سلام پھیرنا ہی کافی ہے۔
نیز اس کی دو صورتیں ہیں:
➊ قبلہ رخ ہی سلام کے الفاظ ادا کیے جائیں اور دائیں جانب معمولی سا چہرہ جھکایا جائے۔
➋ قبلہ رخ ہی سلام کے کلمات کہے جائیں اور دائیں بائیں التفات نہ کیا جائے۔
سلام پھیرنے کی یہ دونوں صورتیں مشروع ہیں۔
نیز صحابہ و تابعین کا عمل بھی اس طریقہ سلام کی مشروعیت کو تقویت دیتا ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز ختم کرنے کے لیے ایک سلام پھیرنا ہی کافی ہے۔
نیز اس کی دو صورتیں ہیں:
➊ قبلہ رخ ہی سلام کے الفاظ ادا کیے جائیں اور دائیں جانب معمولی سا چہرہ جھکایا جائے۔
➋ قبلہ رخ ہی سلام کے کلمات کہے جائیں اور دائیں بائیں التفات نہ کیا جائے۔
سلام پھیرنے کی یہ دونوں صورتیں مشروع ہیں۔
نیز صحابہ و تابعین کا عمل بھی اس طریقہ سلام کی مشروعیت کو تقویت دیتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 732]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 732 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← محمد بن بشار العبدي