صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
قبروں کا پیچھے نماز پڑھنا منع ہے
حدیث نمبر: 794
حَدَّثَنَاهُ بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْمَرْثَدِ الْغَنَوِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ
سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت سنی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب المواضع التى تجوز الصلاة عليها، والمواضع التى زجر عن الصلاة عليها/حدیث: 794]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 972، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 793، 794، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2320، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5000، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 759، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3229، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1050، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4344، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17488»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 794 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 794
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ قبر پر بیٹھنا حرام ہے، جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
نیز قبر کے قریب سونا مکروہ اور قضائے حاجت کرنا بالاولیٰ مکروہ ہے۔
➋ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا ممنوع ہے۔
◈ ملا علی قاری بیان کرتے ہیں:
سامنے میت رکھ کر نماز پڑھنا بالاولیٰ ممنوع ہے اور اس مرض میں اہل مکہ مبتلا ہیں، وہ کعبے کے سامنے میت رکھ کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ قبر پر بیٹھنا حرام ہے، جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
نیز قبر کے قریب سونا مکروہ اور قضائے حاجت کرنا بالاولیٰ مکروہ ہے۔
➋ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا ممنوع ہے۔
◈ ملا علی قاری بیان کرتے ہیں:
سامنے میت رکھ کر نماز پڑھنا بالاولیٰ ممنوع ہے اور اس مرض میں اہل مکہ مبتلا ہیں، وہ کعبے کے سامنے میت رکھ کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 794]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 794 in Urdu