🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
537. (304) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي،
نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان،
امام ابوبکر رحمه الله عليه فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ظاہر بھی عبید اللہ بن عبداللہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے سے گدھا گزرا ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے۔ اور اس حدیث میں یہ بھی ذکر نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تھا۔ لیکن اگر حدیث میں اس بات کا ذکر ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہو گیا تھا کہ گدھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ مقتدیوں کے آگے سے گزرا ہے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سُترہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے لئے کافی تھا ـ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید گاہ میں نماز پڑھاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم برچھی کو سُترہ بناتے تھے۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سُترہ مقتدیوں کے لئے سُترہ نہ بنتا تو پھر ہر نمازی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح برچھی کے ساتھ سُترہ بنانا پڑتا۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سُترے کے لئے برچھی کا اُٹھایا جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقتدیوں کو (علیحدہ) سُترہ بنانے کا حُکم نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ امام کا سُترہ ہی مقتدیوں کا سُترہ ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 837]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 76، 493، 861، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 504، ومالك فى (الموطأ) برقم: 531، وابن الجارود فى "المنتقى"، 187، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 833، 834، 835، 837، 838، 882، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2151، وأبو داود فى (سننه) برقم: 715، 716، والترمذي فى (جامعه) برقم: 337، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 947، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1916»


صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 837 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 837
فوائد:
➊ دورانِ نماز بچوں کی لڑائی ختم کرانا جائز ہے اور اتنے عمل سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
➋ ان احادیث سے استدلال کرنا کہ عورت سامنے سے گزرے تو نماز نہیں ٹوٹتی، باطل ہے۔
➌ یہ بچیاں، عورتیں نہیں تھیں اور عورت کا سامنے سے گزرنا نماز باطل کرتا ہے۔
➍ ان احادیث میں کہیں بیان نہیں ہے کہ وہ بچیاں آپ کے سامنے سے گزری تھیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 837]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 837 in Urdu