صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
559. (326) باب إباحة التفات المصلي فى الصلاة عند إرادة تعليم المصلين بالإشارة إليهم بما يفهمون عنه،
نمازی کے لئے نماز میں دیگر نمازیوں کو تعلیم دینے کی غرض سے ایسا اشارہ کر نا جائز ہے جسے وہ سمجھ لیں
حدیث نمبر: Q873
وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ إِشَارَةَ الْمُصَلِّي بِمَا يُفْهَمُ عَنْهُ غَيْرُ مُفْسِدَةٍ صَلَاتَهُ
اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی کا ایسا اشارہ جسے لوگ سمجھ جائیں، نماز کو باطل وفاسد نہیں کرتا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: Q873]
حدیث نمبر: 873
نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، نَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ، وَهُوَ قَاعِدٌ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا، فَقَعَدْنَا"
سیدنا جابر رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (کھڑے ہو کر) نماز پڑھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر امامت کرا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف التفات کیا تو ہمیں کھڑے ہوئے دیکھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (بیٹھنے کا) اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 873]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 413، وابن الجارود فى "المنتقى"، 241، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 486، 873، 886، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2122، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 797، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1240، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14814، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7215»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 873 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 873
فوائد:
دورانِ نماز امام مقتدیوں کو غلط عمل پر اشارے سے تنبیہ کر سکتا ہے اور اس عمل سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اس حدیث کی مزید توضیح حدیث 486 کے تحت ملاحظہ کریں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو، جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، بیٹھنے کا اشارہ کیا، یہ عمل منسوخ ہے۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی زندگی کی آخری نماز کی امامت کروائی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر کروائی تھی اور صحابہ نے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تھی، لہٰذا یہ عمل اب منسوخ ہے۔
دورانِ نماز امام مقتدیوں کو غلط عمل پر اشارے سے تنبیہ کر سکتا ہے اور اس عمل سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اس حدیث کی مزید توضیح حدیث 486 کے تحت ملاحظہ کریں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو، جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، بیٹھنے کا اشارہ کیا، یہ عمل منسوخ ہے۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی زندگی کی آخری نماز کی امامت کروائی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر کروائی تھی اور صحابہ نے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی تھی، لہٰذا یہ عمل اب منسوخ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 873]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 873 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري