صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
592. (359) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ قَوْلِ الْمُتَثَائِبِ فِي الصَّلَاةِ: هَاهْ وَمَا أَشْبَهَهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ فِي جَوْفِهِ عِنْدَ قَوْلِهِ: هَاهْ
نماز میں جمائی لینے والے کے لیے ھاہ یا اس طرح کی اور آواز نکالنا منع ہے کیونکہ شیطان اس کے ھاہ کہنے سے اس کے پیٹ میں ہنستا ہے
حدیث نمبر: 922
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلا يَقُلْ: آهْ آهْ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ، أَوْ قَالَ: يَلْعَبُ بِهِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ آہ، آہ کی آواز نہ نکالے، کیونکہ اس سے شیطان ہنستا ہے یا فرمایا: ”وہ اس کے ساتھ کھیلتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 922]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3289، 6223، 6224، 6226، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2994، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 920، 921، 922، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 598، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7778، والترمذي فى (جامعه) برقم: 370، 2746، 2747، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 968، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3632، 3633، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7414»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 922 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 922
فوائد:
➊ جمائی کی صورت میں دورانِ نماز اور نماز سے باہر آواز نکالنا اور آہ وغیرہ کہنا مکروہ فعل ہے۔
➋ شیطان اس لیے خوش ہوتا ہے کہ وہ ایسے شخص میں داخل ہونے کی راہ پا لیتا ہے اور اس پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ [فيض القدير: 500/4]
➌ ◈ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس (جمائی کو نہ روکنا) غفلت ہے اور اس کے منہ میں داخل ہو کر وسوسہ ڈالنے کی وجہ سے شیطان خوش ہوتا ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علما بیان کرتے ہیں کہ جمائی کو روکنے اور منہ پر ہاتھ رکھنے کے حکم کی علت یہ ہے کہ شیطان اپنے مقصود، یعنی جمائی لینے والے کی شکل بگاڑنے، اس کے منہ میں داخل ہونے اور اس کی لاچارگی پر ہنسنے میں مبالغہ ریزی سے کام نہ لے سکے۔ [تحفة الأحوذي: 15/8]
➊ جمائی کی صورت میں دورانِ نماز اور نماز سے باہر آواز نکالنا اور آہ وغیرہ کہنا مکروہ فعل ہے۔
➋ شیطان اس لیے خوش ہوتا ہے کہ وہ ایسے شخص میں داخل ہونے کی راہ پا لیتا ہے اور اس پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ [فيض القدير: 500/4]
➌ ◈ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس (جمائی کو نہ روکنا) غفلت ہے اور اس کے منہ میں داخل ہو کر وسوسہ ڈالنے کی وجہ سے شیطان خوش ہوتا ہے۔
◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علما بیان کرتے ہیں کہ جمائی کو روکنے اور منہ پر ہاتھ رکھنے کے حکم کی علت یہ ہے کہ شیطان اپنے مقصود، یعنی جمائی لینے والے کی شکل بگاڑنے، اس کے منہ میں داخل ہونے اور اس کی لاچارگی پر ہنسنے میں مبالغہ ریزی سے کام نہ لے سکے۔ [تحفة الأحوذي: 15/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 922]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 922 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي