صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
612. (379) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَّى نَبِيَّهُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِبْيَانَ عَدَدِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالی نے سفر میں نماز کی رکعات کی تعداد کا بیان اپنے نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ لگایا ہے
حدیث نمبر: 949
وَكَذَلِكَ خَبَرُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ" صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ أَكْثَرَ مَا كُنَّا وَآمَنُهُ"، وَخَبَرُ أَبِي حَنْظَلَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قُلْتُ: إِنَّا آمِنُونَ، قَالَ: كَذَلِكَ سَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدُلُّ عَلَى أَنَّ لِغَيْرِ الْخَائِفِ قَصْرَ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ
اور اسی طرح حضرت حارثہ بن وہب کی یہ حدیث بھی اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں (سفرمیں) پڑھائیں حالانکہ ہم کثیر تعداد میں اور نہایت امن و امان میں تھے۔ اور ابوحنظلہ کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے کہ میں نے کہا، ”بیشک ہم امن و امان کی حالت میں ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح طریقہ سکھایا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں کسی خوف کے بغیر بھی نمازی نماز قصر کر سکتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري 1083، ومسلم 696، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 949، وأخرجه أبو داود: برقم: 1965، وأخرجه الترمذي: 882، والنسائي: 1446»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 949 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 949
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ سفر میں قصر کے جواز کے لیے خوف ہونا شرط نہیں، بلکہ خوف کے علاوہ سفر میں بھی نماز قصر جائز و مشروع فعل ہے۔
➋ قرآن کریم کی مثل حدیثِ نبوی بھی شرعی قوانین کے لیے مستقل سند کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا یہ عقیدہ اور نظریہ باطل ہے کہ جو چیز قرآن میں ہو وہی حجت ہے۔ حدیث ثانوی حیثیت کی حامل ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ سفر میں قصر کے جواز کے لیے خوف ہونا شرط نہیں، بلکہ خوف کے علاوہ سفر میں بھی نماز قصر جائز و مشروع فعل ہے۔
➋ قرآن کریم کی مثل حدیثِ نبوی بھی شرعی قوانین کے لیے مستقل سند کی حیثیت رکھتی ہے، لہذا یہ عقیدہ اور نظریہ باطل ہے کہ جو چیز قرآن میں ہو وہی حجت ہے۔ حدیث ثانوی حیثیت کی حامل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 949]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 949 in Urdu