صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
614. (381) باب إباحة قصر المسافر الصلاة فى المدن إذا قدمها، ما لم ينو مقاما يوجب إتمام الصلاة
مسافر کے کسی شہر میں آکر نماز قصر کرنے کا بیان، جب تک وہ اتنے دن قیام کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو کہ جس میں مکمّل نماز پڑھنا واجب ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 954
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ،" كَانَ إِذَا كَانَ بِمَكَّةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، إِلا أَنْ يَجْمَعَهُ إِمَامٌ فَيُصَلِّي بِصَلاتِهِ، فَإِنْ جَمَعَهُ الإِمَامُ يُصَلِّي بِصَلاتِهِ"
امام شعبی روایت کرے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکّہ مکرّمہ میں ہوتے تو دو دو رکعتیں نماز پڑھتے ہاں اگر امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو پھر امام کی طرح مکمّل نماز پڑھتے، (یعنی) اگر وہ باجماعت امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو امام جیسی نماز پڑھتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 499، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 954»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 954 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 954
فوائد:
➊ مسافر کا مقیم امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے اور اس صورت میں مسافر پوری نماز پڑھے گا۔
➋ مسافر امام کی اقتداء میں یا تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں مسافر قصر نماز ادا کرے گا۔
➌ اگر مقیم امام کے پیچھے مسافر مقتدی دو رکعت گزرنے کے بعد شامل ہو تو مسافر کو آخری دو رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دینا چاہیے یا پوری نماز پڑھنی چاہیے، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن احادیثِ باب کی رو سے یہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں پوری نماز پڑھنا ہی مسنون ہے، کیونکہ ان احادیث میں مقیم امام کے پیچھے پوری نماز پڑھنا سنتِ نبوی قرار دیا گیا ہے، اس میں اول یا آخر کی نماز میں شامل ہونے کی وضاحت نہیں ہے۔
➊ مسافر کا مقیم امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے اور اس صورت میں مسافر پوری نماز پڑھے گا۔
➋ مسافر امام کی اقتداء میں یا تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں مسافر قصر نماز ادا کرے گا۔
➌ اگر مقیم امام کے پیچھے مسافر مقتدی دو رکعت گزرنے کے بعد شامل ہو تو مسافر کو آخری دو رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دینا چاہیے یا پوری نماز پڑھنی چاہیے، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن احادیثِ باب کی رو سے یہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں پوری نماز پڑھنا ہی مسنون ہے، کیونکہ ان احادیث میں مقیم امام کے پیچھے پوری نماز پڑھنا سنتِ نبوی قرار دیا گیا ہے، اس میں اول یا آخر کی نماز میں شامل ہونے کی وضاحت نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 954]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 954 in Urdu