صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
633. (400) باب الدليل على أن المدرك هذه الركعة مدرك لوقت الصلاة والواجب عليه إتمام صلاته
اس بات کی دلیل کا بیان اس رکعت کو پالینے والا نماز کا وقت پالینے والا ہے، اور اس پر نماز مکمّل کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 986
نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے صبح ایک رکعت پڑھی پھر سورج طلوع ہوگیا تو وہ اُس کے ساتھ دوسری رکعت بھی پڑھ لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 986]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 986، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1581، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1018، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1808، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1432، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7336»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 986 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 986
فوائد:
➊ امام کے ساتھ ایک رکعت پانے والا نماز پا لیتا ہے۔ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ اسے ظاہر الفاظ پر محمول نہیں کیا جائے گا، یعنی ایک رکعت پانے سے وہ پوری نماز حاصل نہیں کر پائے گا۔ نہ ایک رکعت تمام نماز کی طرف سے کافی ہو گی اور نہ ایک رکعت سے وہ فرضیت سے بری الذمہ ہو گا، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب و غروبِ آفتاب سے قبل فجر و عصر کی ایک رکعت حاصل کرنے والا نماز کا حکم، اس کا وجوب اور فضیلت حاصل کر لے گا۔ ◈ [شرح النووي: 104/5]
➋ جب نمازی نماز کے آخری وقت میں نماز شروع کرے اور ایک رکعت پڑھنے کے بعد نماز کا وقت ختم ہو جائے تو وہ اسے وقت ہی میں ادا کرنا حاصل کر لے گا۔ اور اس کی تمام نماز ادا شمار ہو گی، شافعیہ کے نزدیک یہ قول راجح ہے۔ ◈ [شرح النووي: 105/5]
➌ احادیثِ باب صریح دلیل ہیں کہ جو شخص عصر کی نماز غروبِ آفتاب سے قبل ایک رکعت پائے، پھر سلام پھیرنے سے قبل نماز کا وقت ختم ہو جائے تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی، بلکہ وہ اپنی نماز پوری کرے اور اس کی یہ نماز صحیح قرار پائے گی۔ اس مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء کا اجماع ہے۔ البتہ نمازِ صبح کی اس کیفیت کے بارے میں امام مالک، امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور جمیع علماء کا سابقہ موقف ہی ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نمازِ فجر طلوعِ آفتاب پر باطل ہو گی کیونکہ طلوعِ آفتاب پر نماز کا ممنوعہ وقت شروع ہو جاتا ہے، جبکہ احادیثِ باب ان کے اس موقف کی تردید کرتی ہیں۔ ◈ [شرح النووي: 105/5]
➊ امام کے ساتھ ایک رکعت پانے والا نماز پا لیتا ہے۔ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ اسے ظاہر الفاظ پر محمول نہیں کیا جائے گا، یعنی ایک رکعت پانے سے وہ پوری نماز حاصل نہیں کر پائے گا۔ نہ ایک رکعت تمام نماز کی طرف سے کافی ہو گی اور نہ ایک رکعت سے وہ فرضیت سے بری الذمہ ہو گا، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب و غروبِ آفتاب سے قبل فجر و عصر کی ایک رکعت حاصل کرنے والا نماز کا حکم، اس کا وجوب اور فضیلت حاصل کر لے گا۔ ◈ [شرح النووي: 104/5]
➋ جب نمازی نماز کے آخری وقت میں نماز شروع کرے اور ایک رکعت پڑھنے کے بعد نماز کا وقت ختم ہو جائے تو وہ اسے وقت ہی میں ادا کرنا حاصل کر لے گا۔ اور اس کی تمام نماز ادا شمار ہو گی، شافعیہ کے نزدیک یہ قول راجح ہے۔ ◈ [شرح النووي: 105/5]
➌ احادیثِ باب صریح دلیل ہیں کہ جو شخص عصر کی نماز غروبِ آفتاب سے قبل ایک رکعت پائے، پھر سلام پھیرنے سے قبل نماز کا وقت ختم ہو جائے تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی، بلکہ وہ اپنی نماز پوری کرے اور اس کی یہ نماز صحیح قرار پائے گی۔ اس مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء کا اجماع ہے۔ البتہ نمازِ صبح کی اس کیفیت کے بارے میں امام مالک، امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور جمیع علماء کا سابقہ موقف ہی ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نمازِ فجر طلوعِ آفتاب پر باطل ہو گی کیونکہ طلوعِ آفتاب پر نماز کا ممنوعہ وقت شروع ہو جاتا ہے، جبکہ احادیثِ باب ان کے اس موقف کی تردید کرتی ہیں۔ ◈ [شرح النووي: 105/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 986]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 986 in Urdu
بشير بن نهيك السدوسي ← أبو هريرة الدوسي