صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
636. (403) بَابُ النَّائِمِ عَنِ الصَّلَاةِ وَالنَّاسِي لَهَا يَسْتَيْقِظُ أَوْ يَذْكُرُهَا فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ
نماز سے سوئے رہ جانے والے یا اُسے بھولنے والے کا بیان جو نماز کے وقت کے بعد بیدار ہو اور اُسے نماز یاد آئے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَبَاحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابَهُ لَمَّا نَامُوا عَنِ الصَّلاةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوهَا لِلْغَدِ لِوَقْتِهَا"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام جب نماز سے سوئے رہ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ اس نماز کو کل اس کے وقت میں پڑھنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 595، 7471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 681، وابن الجارود فى "المنتقى"، 171، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 409، 410، 989، 990، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1460، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 614، وأبو داود فى (سننه) برقم: 437، والترمذي فى (جامعه) برقم: 177، 1894، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1794، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22982»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 990 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 990
فوائد:
➊ جب کسی کی نماز فوت ہو جائے تو اس کی قضا واجب ہے۔
پھر اگر نماز کسی عذر کی وجہ سے فوت ہو جائے تو، راجح مذہب کے نزدیک، اس کی قضا فی الفور مستحب ہے۔
اور صحیح مذہب کے نزدیک اس میں تاخیر بہر حال جائز ہے۔
اور اگر بلا عذر نماز چھوٹ جائے تو، راجح مذہب کے نزدیک، اس کی قضا فی الفور واجب ہے۔
اور ایک قول کے مطابق اس صورت میں بھی فوری قضا واجب نہیں بلکہ اس میں تاخیر جائز ہے۔
پھر اگر کئی نمازوں کی قضا دینی ہو تو انہیں بالترتیب پڑھنا مستحب ہے۔
لیکن اگر ترتیب چھوڑ دی جائے تو شافعی اور ان کے موافقین کے نزدیک نماز درست ہوگی، خواہ تھوڑی نمازیں ہوں یا زیادہ۔ [شرح النووي: 180/5]
➋ جو جگہ یا کام نماز میں غفلت کا سبب ہو، اس جگہ وغیرہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ نماز پڑھنی چاہیے، اس سے شیطانی اثر زائل ہو جاتا ہے۔
➌ اگر کسی ایک نماز میں سستی واقع ہو تو اسے معمول نہیں بنانا چاہیے۔
بلکہ اس غفلت کو دور کرتے ہوئے مستقبل میں نمازوں کے وقت کی پابندی کی جائے۔
➊ جب کسی کی نماز فوت ہو جائے تو اس کی قضا واجب ہے۔
پھر اگر نماز کسی عذر کی وجہ سے فوت ہو جائے تو، راجح مذہب کے نزدیک، اس کی قضا فی الفور مستحب ہے۔
اور صحیح مذہب کے نزدیک اس میں تاخیر بہر حال جائز ہے۔
اور اگر بلا عذر نماز چھوٹ جائے تو، راجح مذہب کے نزدیک، اس کی قضا فی الفور واجب ہے۔
اور ایک قول کے مطابق اس صورت میں بھی فوری قضا واجب نہیں بلکہ اس میں تاخیر جائز ہے۔
پھر اگر کئی نمازوں کی قضا دینی ہو تو انہیں بالترتیب پڑھنا مستحب ہے۔
لیکن اگر ترتیب چھوڑ دی جائے تو شافعی اور ان کے موافقین کے نزدیک نماز درست ہوگی، خواہ تھوڑی نمازیں ہوں یا زیادہ۔ [شرح النووي: 180/5]
➋ جو جگہ یا کام نماز میں غفلت کا سبب ہو، اس جگہ وغیرہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ نماز پڑھنی چاہیے، اس سے شیطانی اثر زائل ہو جاتا ہے۔
➌ اگر کسی ایک نماز میں سستی واقع ہو تو اسے معمول نہیں بنانا چاہیے۔
بلکہ اس غفلت کو دور کرتے ہوئے مستقبل میں نمازوں کے وقت کی پابندی کی جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 990]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 990 in Urdu
عبد الله بن رباح الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي