اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
506. استحباب الوضع من الدين
باب: قرض سے کچھ معاف کر دینا مستحب ہے، اگر قرض دار کو تکلیف ہو
حدیث نمبر: 1004
1004 صحيح حديث كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى يَا كَعْبُ قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هذَا وَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، أَيِ الشَّطْرَ، قَالَ: لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے مسجدِ نبوی میں عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا تقاضا کیا اور دونوں کی گفتگو بلند آواز سے ہونے لگی، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرے سے سن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ ہٹا کر باہر تشریف لائے اور پکارا: ”اے کعب!“ کعب رضی اللہ عنہ بولے: جی اے اللہ کے رسول! فرمایئے کیا ارشاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ تھا کہ آدھا کم کر دیں؛ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے (بخوشی) ایسا کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اچھا اب اٹھو اور اس کا قرض ادا کرو۔“ (جو آدھا معاف کر دیا گیا ہے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 71 باب التقاضي والملازمة في المسجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1004 in Urdu