اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
518. باب بيع الطعام مثلاً بمثل
باب: دو جنس غلہ کی بیع جائز ہے، جب وہ برابر برابر ہوں
حدیث نمبر: 1025
1025 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ بِلاَلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ هذَا قَالَ بِلاَلٌ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيٌّ، فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِنُطْعِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَوَّهْ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبا عَيْنُ الرِّبَا لاَ تَفْعَلْ وَلكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ، فَبِعِ التَّمْرَ بِبَيْعِ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِهِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برنی کھجور (کھجور کی ایک عمدہ قسم) لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہاں سے لائے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہمارے پاس خراب کھجور تھی، اس کے دو صاع، اس کے ایک صاع کے بدلے میں دے کر ہم اسے لائے ہیں تاکہ ہم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”توبہ! توبہ! یہ تو سود ہے، بالکل سود۔ ایسا نہ کیا کر، البتہ (اچھی کھجور) خریدنے کا ارادہ ہو تو (خراب) کھجور بیچ کر (اس کی قیمت سے) عمدہ خریدا کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 40 كتاب الوكالة: 11 باب إذا باع الوكيل شيئًا فاسدًا فبيعه مردود»
وضاحت: معلوم ہوا کہ ایک ہی جنس میں کمی و بیشی سے لین دین سود میں داخل ہے۔ اس کی صورت یہ بتلائی گئی کہ گھٹیا جنس کو علیحدہ طور پر نقد بیچ کر اس کے روپوں سے وہی بڑھیا جنس خرید لی جائے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1025 in Urdu