اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
565. باب دية الجنين ووجوب الدية في قتل الخطأ وشبه العمد على عاقلة الجاني
باب: پیٹ کے بچے کی دیت، قتل، خطا اور شبہ عمد کی دیت قاتل کے والد کے رشتہ داروں پر ہے
حدیث نمبر: 1095
1095 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضى فِي امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ اقْتَتَلَتَا، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بَحَجَرٍ، فَأَصَابَ بَطْنَهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَتَلَتْ وَلَدَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضى أَنَّ دِيَةَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ؛ فَقَالَ وَلِيُّ الْمَرْأَةِ الَّتِي غَرِمَتْ: كَيْفَ أَغْرَمُ، يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكلَ، وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بطَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكهَّانِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں کے بارے میں فیصلہ کیا، جنہوں نے جھگڑا کیا تھا یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت (ام عطیف بنت مروح) نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا (جس کا نام ملیکہ بنت عویمر تھا) وہ پتھر عورت کے پیٹ میں جا کر لگا۔ یہ عورت حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کا بچہ (پتھر کی چوٹ) سے مر گیا۔ یہ معاملہ دونوں فریق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ”عورت کے پیٹ کے بچہ کی دیت ایک غلام یا باندی آزاد کرنا ہے“ جس عورت پر تاوان واجب ہوا تھا اس کے ولی (حمل بن مالک بن نابغہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی چیز کی دیت کیسے دے دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت اس کی آواز ہی سنائی دی؟ ایسی صورت میں تو کچھ بھی دیت نہیں ہو سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ”یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے“ (جب ہی تو کاہنوں کی طرح مسجع اور مقفی فقرے بولتا ہے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 46 باب الكهانة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1095 in Urdu