🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
570. باب رجم اليهود أهل الذمة في الزنى
باب: زنا میں یہودیوں کے رجم کیے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1105
1105 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: قَبْلَ سُورَةِ النُّورِ أَمْ بَعْدُ قَالَ: لاَ أَدْرِي
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا: سورۂ نور سے پہلے یا اس کے بعد؟ انہوں نے کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحدود/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 86 كتاب الحدود: 21 باب رجم المحصن»
وضاحت: سورۂ نور کے اترنے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے زانیہ عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کورے مارو۔ یہ بات دلائل سے ثابت ہو چکی ہے کہ رجم کا وقوع سورۂ نور کے نزول کے بعد بھی ہوا ہے کیونکہ اس کا سبب نزول واقعہ افک ہے جو چار یا پانچ یا چھ ہجری کو پیش آیا جبکہ رجم بعد میں بھی کیا گیا۔ واقعہ رجم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حاضر تھے جو کہ سات ہجری کو مسلمان ہوئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمابھی رجم کو نقل کرتے ہیں جو کہ مدینہ میں ۹ ہجری کو اپنی والدہ کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1105 in Urdu