اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
598. باب حكم الفيء
باب: جو مال کافروں کا بغیر لڑائی کے ہاتھ آئے اس کا حکم
حدیث نمبر: 1146
1146 صحيح حديث عُمَرَ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلاَحِ وَالْكُرَاعِ، عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو نضیر کے اموال (باغات وغیرہ) ان میں سے تھے ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] ”جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر لڑے دے دیا تھا، مسلمانوں نے ان کو حاصل کرنے کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے“ تو یہ اموال خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے تھے، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات کو سالانہ نفقہ کے طور پر بھی دے دیتے تھے اور باقی ہتھیار اور گھوڑوں پر خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) ہر وقت تیاری رہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب الجهاد والسير: 80 باب المجن من يتترس بترس صاحبه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1146 in Urdu