اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
613. باب ما لقي النبي صلی اللہ علیہ وسلم من أذى المشركين والمنافقين
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں اور منافقوں کے ہاتھوں جو تکلیف پائی اس کا ذکر
حدیث نمبر: 1175
1175 صحيح حديث جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ رضي الله عنه، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ، لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مَنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَالضُّحى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى)
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑ گئے اور دو یا تین راتوں کو (تہجد کے لیے) نہیں اٹھ سکے۔ پھر ایک عورت (ابو لہب کی بیوی عوراء) آئی اور کہنے لگی: اے محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، دو یا تین راتوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے پاس وہ نہیں آیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الضحیٰ نازل فرمائی: ﴿وَالضُّحٰی ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰی ۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰی﴾ [سورة الضحى: 1-3] یعنی قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔ [سورة الضحى: 1-3] آخر تک۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 93 سورة والضحى: 1 باب حدثنا أحمد بن يونس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1175 in Urdu