🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب أدنى أهل الجنة منزلة فيها
باب: جنت میں سب سے کم درجے کے جنتی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
119 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ فَإِنَّهُ خَلِيلُ الرَّحْمنِ؛ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللهِ؛ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلكِنْ [ص:49] عَلَيْكُمْ بِعِيسَى فَإِنَّهُ رُوحُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ؛ فَيَأْتونَ عِيسَى فيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلكِنْ عَلَيْكُمْ بِمحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَيَأْتُونِي فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي، وَيُلْهِمُنِي مَحَامِدَ أَحْمَدُهُ بِهَا لاَ تَحْضُرُنِي الآنَ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ وَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ؛ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا؛ فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَعْ؛ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي، أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مِنْهَا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ أَوْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ؛ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ؛ ثُمَّ أَعُودُ فَأَحْمَدُهُ بِتَلْكَ الْمَحَامِدِ ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا؛ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ؛ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي، أُمَّتِي فَيُقَالُ انْطَلِقْ فَأخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ؛ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَل ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا؛ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَع، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ؛ فَأَقَولُ يَا رَبِّ ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ، فَيَقُولُ وَعِزَّتِي وَجَلاَلِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لا إِله إلاَّ اللهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کا دن جب آئے گا تو لوگ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوں گے، پھر وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ہماری اپنے رب کے پاس شفاعت کیجیے، وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کے خلیل ہیں، لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ سے شرفِ ہم کلامی پانے والے ہیں، لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، البتہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں کہوں گا کہ میں شفاعت کے لیے ہوں، اور پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھے الہام کرے گا جن کے ذریعے میں اللہ کی حمد بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں، چنانچہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اور اللہ کے حضور سجدہ کرنے والا ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے وہ سنا جائے گا، جو مانگو گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی، (یہ سن کر) میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان سب کو نکال لاؤ جن کے دل میں جو کے دانے برابر بھی ایمان ہو، چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا، پھر میں واپس آؤں گا اور اللہ رب العزت کی یہی تعریفیں ایک بار پھر کروں گا اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو وہ سنا جائے گا، جو مانگو گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی، پھر میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لو جن کے دل میں ذرہ یا رائی برابر بھی ایمان ہو، چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا، پھر میں لوٹوں گا اور یہی تعریفیں پھر کروں گا اور اللہ کے لیے سجدے میں چلا جاؤں گا، مجھ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے سنا جائے گا، جو مانگو گے دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی، میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے کم سے کم تر حصے کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی جہنم سے نکال لو، میں پھر جاؤں گا اور نکالوں گا، پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا اور وہی تعریفیں کروں گا اور اللہ تعالیٰ کے لیے سجدے میں چلا جاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے سنا جائے گا، جو مانگو گے دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی، میں کہوں گا: اے رب! مجھے ان کے بارے میں بھی اجازت دیجیے جنہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی اور میری بڑائی کی قسم! اس میں سے انہیں بھی نکالوں گا جنہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 36 باب كلام الرب عز وجل يوم القيامة مع الأنبياء وغيرهم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 119 in Urdu