اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
627. باب غلظ تحريم الغلول
باب: غنیمت میں چوری بہت بڑا گناہ ہے
حدیث نمبر: 1201
1201 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْغُلُولَ، فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ، قَالَ: لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ، عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ؛ وَعَلَى رَقَبَتِهِ بعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ؛ وَعَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ؛ أَوْ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا اور غلول (خیانت) کا ذکر فرمایا، اس جرم کی ہولناکی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ”میں تم سے کسی کو بھی قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری لدی ہوئی ہو اور وہ چلا رہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا لدا ہوا ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص مجھ سے کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں تو (خدا کا پیغام) تمہیں پہنچا چکا تھا۔ اور اس کی گردن پر اونٹ لدا ہوا ہو اور چلا رہا ہو، اور وہ شخص کہے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیں۔ لیکن میں یہ جواب دے دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں تو خدا کا پیغام تمہیں پہنچا چکا ہوں، یا (وہ اس حال میں آئے کہ) وہ اپنی گردن پر سونا، چاندی، اسباب لادے ہوئے ہو اور مجھ سے کہے: یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے، لیکن میں اس سے یہ کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، میں اللہ تعالیٰ کا پیغام تمہیں پہنچا چکا تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1201]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 189 باب الغلول»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1201 in Urdu