🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
632. باب الأمر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة إلى الكفر
باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوںکی جماعت کے ساتھ رہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
1211 صحيح حديث حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللهُ بِهذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ: نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ قَالَ: قَوْمٌ يَهْدُونَ بَغَيْرِ هَدْيي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ: نَعَمْ، دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا فَقَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي، إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذلِكَ
ابو ادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہیں میں اس میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی) عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا۔“ میں نے عرض کیا، وہ دھواں کیا ہوگا؟ آپ نے جواب دیا: ”ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور میرے طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے، ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔“ میں نے سوال کیا، کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ بھی آئے گا؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجیے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے، ہماری ہی زبان بولیں گے۔“ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے تابع رہنا۔“ میں نے عرض کیا، اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ نے فرمایا: ”پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا، اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو۔“ (تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہوگا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1211 in Urdu