اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
635. باب المبايعة بعد فتح مكة على الإسلام والجهاد والخير وبيان معنى لا هجرة بعد الفتح
باب: فتح مکہ کے بعد اسلام یا جہاد یا نیکی پر بیعت ہونا، اور اس کے بعد ہجرت نہ ہونے کے معنی
حدیث نمبر: 1220
1220 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا قَالَ: نَعَمْ؛ قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللهَ لَنْ ِيَترَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا (یعنی یہ کہ آپ اجازت دیں تو میں مدینہ میں ہجرت کر آؤں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس! اس کی تو شان بڑی ہے، کیا تیرے پاس زکاۃ دینے کے لیے کچھ اونٹ ہیں جن کی تو زکاۃ دیا کرتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ہاں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا ہے، سمندروں کے اس پار (جس ملک میں تو رہے وہاں) عمل کرتا رہ، اللہ تیرے کسی عمل کا ثواب کم نہیں کرے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 36 باب زكاة الإبل»
وضاحت: آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب تم اپنے ملک میں ارکان اسلام آزادی کے ساتھ ادا کر رہے ہو تو خوامخواہ ہجرت کا خیال کرنا ٹھیک نہیں۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1220 in Urdu