اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
662. باب إِباحة الضب
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے
حدیث نمبر: 1272
1272 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهمْ سَعْدٌ، فَذَهَبُوا يَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمٍ، فَنَادَتْهُمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَأَمْسَكُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا أَوِ اطْعَمُوا، فَإِنَّهُ حَلاَلٌ أَوْ قَالَ: لاَ بَأْسَ بِهِ وَلكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی اصحاب جن میں سعد رضی اللہ عنہ بھی (دستر خوان پر بیٹھے ہوئے) تھے، لوگوں نے گوشت کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ازواجِ مطہرات میں سے ایک زوجہ مطہرہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے آگاہ کیا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ سب لوگ کھانے سے رک گئے۔ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «كُلُوا» "تم کھاؤ" فرمایا یا «أَطْعِمُوا» "کھلاؤ" فرمایا) ”اس لیے کہ حلال ہے“ یا فرمایا: ”اس کھانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ یہ جانور میری خوراک نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 95 كتاب أخبار الآحاد: 6 باب خبر المرأة الواحدة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1272 in Urdu