🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
671. باب الفرع والعتيرة
باب: فرع اور عتیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1291
1291 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ وَالْفَرَعَ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لَطَوَاغِيتِهِمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسلام میں) «الفَرَعُ» ”فرع“ اور «العَتِيرَةُ» ”عتیرہ“ نہیں ہیں۔“ «الفَرَعُ» ”فرع“ (اونٹنی کے) سب سے پہلے بچے کو کہتے تھے جسے (جاہلیت میں) لوگ اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور «العَتِيرَةُ» ”عتیرہ“ کو رجب میں ذبح کیا جاتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأضاحي/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 71 كتاب العقيقة: 3 باب الفرع»
وضاحت: فرع کی ایک تعریف تو نفس حدیث میں موجود ہے کہ جب ان لوگوں کا مادہ جانور پہلا بچہ جنم دیتا تھا تو وہ اسے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ بعض نے اس کی تعریف یہ کی ہے کہ جاہلیت میں جب کسی آدمی کے سو اونٹ ہو جاتے تو وہ ایک جوان اونٹ اپنے بت کے نام پر ذبح کر دیتا تھا اسے بھی وہ فرع کہتے تھے۔ ابن الاثیر نے لکھا ہے کہ امام خطابی فرماتے ہیں عتیرہ سے مراد وہ جانور ہے جسے جاہلیت میں لوگ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے اور اس کا خون بت کے سر پر بہا دیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1291 in Urdu