اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
684. باب استحباب إِدارة الماء واللبن ونحوهما عن يمين المبتدى
باب: دودھ پانی یا کوئی دوسری چیز شروع کرنے والے کے داہنی طرف سے تقسیم کرنا
حدیث نمبر: 1319
1319 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقَدَحٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ، أَصْغَرُ الْقَوْمِ، وَالأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: يَا غُلاَمُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَهُ الأَشْيَاخَ قَالَ: مَا كُنْتُ لأُوثِرَ بِفَضْلِي مِنْكَ أَحَدًا، يَا رَسُول اللهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ اور پانی کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک نو عمر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور کچھ بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے! کیا تو اجازت دے گا کہ میں پہلے یہ پیالہ بڑوں کو دے دوں؟“ اس پر اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے میں سے اپنے حصے کو اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ پہلے اسی کو دے دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرحه البخاري في: 42 كتاب الشرب والمساقاة: 1 باب في الشرب»
وضاحت: حدیث سے یہ نکلا کہ تقسیم میں پہلے دائیں طرف والوں کا حصہ ہے پھر بائیں طرف والوں کا۔ نیز حق اور نا حق کے مقابلہ میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کا لحاظ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نو عمر لڑکے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماتھے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1319 in Urdu