اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
699. باب تحريم استعمال إِناء الذهب والفضة على الرجال والنساء، وخاتم الذهب والحرير على الرجل وإِباحته للنساء، وإِباحة العلم ونحوه على الرجل ما لم يزد على أربع أصابع
باب: سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں کے لیے حرام ہے‘ سونے کی انگوٹھی اور ریشم مردوں پر حرام ہے اور عورتوں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1340
1340 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَلْبَسُ هذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَسَوْتَنِيَهَا، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، أَخًا لَهُ، بِمَكَّةَ، مُشْرِكًا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ریشم کا) دھاری دار جوڑا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بکتا دیکھا تو کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بہتر ہو اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعے کے دن اور وفود جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو ان کی ملاقات کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنا کریں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی طرح کے کچھ جوڑے آئے تو اس میں سے ایک جوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ جوڑا پہنا رہے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ایسا فرمایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہیں خود پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو پہنا دیا جو مکے میں رہتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 7 باب يلبس أحسن ما يجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1340 in Urdu