اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
724. باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته وحمله إِلى صالح يحنكه وجواز تسميته يوم ولادته واستحباب التسمية بعبد الله وإِبراهيم وسائر أسماء الأنبياء عليهم السلام
باب: بچے کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنا (گھٹی دینا) اور اس کے لیے اس کو کسی نیک آدمی کے پاس لے جانا اور پیدائش کے دن نام رکھنا بہتر ہے نیز عبداللہ ابراہیم اور دیگر تمام انبیاء کے نام رکھنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 1388
1388 صحيح حديث أَسْمَاءَ رضي الله عنها، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ؛ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الإِسْلاَمِ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے، انہی دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہو چکی تھی، میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئی، یہاں پہنچ کر میں نے قبا میں پڑاؤ کیا اور یہیں عبداللہ رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔ پھر میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اسے رکھ دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ رضی اللہ عنہما کے منہ میں اسے رکھ دیا، چنانچہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہما کے منہ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لیے برکت طلب کی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 45 باب هجرة النبي صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابه إلى المدينة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1388 in Urdu