اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
755. باب الطيرة والفأل وما يكون فيه الشؤم
باب: بد فال اور نیک فال کا بیان اور کن چیزوں میں نحوست ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1437
1437 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالُوا: وَمَا الْفَأْلُ قَالَ: كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوت لگنا کوئی چیز نہیں ہے اور بدشگونی نہیں ہے، البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نیک فال کیا ہے؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے سن لینا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1437]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 54 باب لا عدوى»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1437 in Urdu