اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
756. باب قتل الحيات وغيرها
باب: سانپوں وغیرہ کے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 1441
1441 صحيح حديث ابن عمر وأبي لبابة رَضِيَ اللهُ عَنْهُم، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى المِنْبَرِ يَقُولُ:"اقْتُلُوا الحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ البَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الحَبَلَ" قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا، فَنَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ: لاَ تَقْتُلْهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِ الحَيَّاتِ قَالَ: إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَاتِ البُيُوتِ، وَهِيَ العَوَامِرُ وَفي رواية: فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بن عبد المنذر، أَوْ زَيْدُ بْنُ الخَطَّابِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ”سانپوں کو مار ڈالا کرو (خصوصاً) ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی، کیونکہ یہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کر دیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک مرتبہ میں ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھ سے سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ اسے نہ مارو، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سانپوں کو مارنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جو جن ہوتے ہیں، دفعتاً مار ڈالنے سے منع فرمایا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ مجھ کو سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1441]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ 14 بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ}»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت رفاعہ بن عبدالمنذر انصاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو لبابہ تھی۔ بیعت عقبہ اور بدر وغیرہ غزوات میں شریک ہوئے۔ ایک رائے کے مطابق بدر میں شامل نہ ہو سکے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ میں ٹھہرنے کو کہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1441 in Urdu