اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
770. باب في معجزات النبيّ ﷺ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا بیان
حدیث نمبر: 1468
1468 صحيح حديث أَنسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلاَة الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ذلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّؤُوا مِنْهُ قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبَعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، حَتَّى تَوَضَّؤُوا مِنْ عِنْدَ آخِرِهِمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز کا وقت آ گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا، جب انہیں پانی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ایک برتن میں) وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ”اسی (برتن) سے وضو کریں۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی (چشمے کی طرح) ابل رہا تھا۔ یہاں تک کہ (قافلے کے) آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 32 باب التماس الوضوء إذا حانت الصلاة»
وضاحت: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ایک پیالہ پانی سے سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ وضو کے لیے پانی تلاش کرنا اس سے ثابت ہوا۔ نہ ملے تو پھر تیمم کر لینا چاہیے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1468 in Urdu