اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
780. باب ما سئل رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شيئًا قط فقال لا، وكثرة عطائه
باب: ہر سوال کرنے والے کو دینے اور انکار نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1494
1494 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَدْ جَاءَ مَال الْبَحْرَيْنِ قَد أَعْطَيْتُكَ هكَذَا وَهكَذَا وَهكَذَا فَلَمْ يَجِى مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ، فَنَادَى: مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا فَحَثَى لِي حَثْيَةً، فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ وَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر بحرین سے (جزیہ کا) مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دونوں لپ بھر بھر کر دوں گا“، لیکن بحرین سے مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک نہیں آیا، پھر جب اس کے بعد وہاں سے مال آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا کہ جس سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی کا قرض ہو وہ ہمارے یہاں آ جائے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ یہ باتیں فرمائی تھیں، جسے سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا۔ میں نے اسے شمار کیا تو وہ پانچ سو کی رقم تھی، پھر انہوں نے فرمایا کہ اس کا دگنا اور لے لو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 39 كتاب الكفالة: 3 باب من تكفل عن ميت دينًا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1494 in Urdu