اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
801. باب من فضائل إِبراهيم الخليلؑ
باب: حضرت ابراہیم ؑ کے فضائل
حدیث نمبر: 1530
1530 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [سورة البقرة: 260] ”اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم ایمان نہیں لائے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، لیکن یہ صرف اس لیے تاکہ میرے دل کو اور زیادہ اطمینان ہو جائے“ اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے کہ وہ زبردست رکن (یعنی خداوند کریم کی پناہ لیتے تھے) اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک سیدنا یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں بلانے والے کی بات ضرور مان لیتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 11 باب قوله عز وجل (ونبئهم عن ضيف إبراهيم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1530 in Urdu