🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
807. باب من فضائل عمر رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1546
1546 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الدِّينَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک دفعہ سو رہا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں، کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچے ہے۔ (پھر) میرے سامنے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ لائے گئے۔ ان (کے بدن) پر (جو) کرتہ تھا، اسے وہ گھسیٹ رہے تھے۔ (یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا)۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی کیا تعبیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس سے) دین مراد ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 15 باب تفاضل أهل الإيمان في الأعمال»
وضاحت: یعنی دین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس میں اس طرح جمع ہو گیا کہ کسی اور کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کرتہ چونکہ سب سے بڑا تھا، اس لیے ان کا دینی فہم بھی اوروں سے بڑھ کر تھا۔ دین کی اس کمی بیشی میں ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ ایمان کم و بیش نہیں ہوتا۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1546 in Urdu