اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
807. باب من فضائل عمر رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1550
1550 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَخَلْت الْجَنَّةَ أَوْ أَتَيْتُ الْجَنَّةَ فَأَبْصَرْتُ قَصْرًا فَقُلْتُ: لِمَنْ هذَا قَالُوا: لِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي إِلاَّ عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللهِ أَوَ عَلَيْكَ أَغَارُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) میں جنت میں گیا، وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں لیکن رک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اے اللہ کے نبی! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 107 باب الغيرة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1550 in Urdu