اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
810. باب في فضل سعد بن أبي وقاص رضی اللہ عنہ
باب: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1560
1560 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، قَالَ لَيْتَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِي صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلاَحٍ فَقَالَ: مَنْ هذَا فَقَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، جِئْتُ لأَحْرُسَكَ وَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) بیداری میں گزاری، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا!“ (ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ) ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون صاحب ہیں؟“ (آنے والے نے) کہا: میں ہوں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے، ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 70 باب الحراسة في الغزو في سبيل الله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1560 in Urdu