اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
817. باب في فضل عائشة رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے فضائل
حدیث نمبر: 1583
1583 صحيح حديث عَائِشةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، يَقُولُ: أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيدُ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدورُ عَلَيَّ فِيهِ، فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے رہتے تھے: ”کل میرا قیام کہاں ہو گا؟ کل میرا قیام کہاں ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے منتظر تھے، پھر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے اجازت دے دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں قیام فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی وہیں ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدے کے مطابق میرے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کی باری تھی۔ رحلت کے وقت سرِ مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1583]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ووفاته»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1583 in Urdu