اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
817. باب في فضل عائشة رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے فضائل
حدیث نمبر: 1585
1585 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَسَمِعْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ: (مَعَ الَّذِين أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ) الآيَةَ فَظَننْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت میں رہنے کا اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے، آپ کی آواز بھاری ہو چکی تھی، آپ آیت ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة النساء: 69] کی تلاوت فرما رہے تھے (یعنی ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے“)، مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1585]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ووفاته»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1585 in Urdu