🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
819. باب فاطمة بنت النبيّﷺ
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
1593 صحيح حديث عَائِشَةَ، وَفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ عَنْ عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: إِنَّا كُنَّا، أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلاَمُ تَمْشِي، لاَ، وَاللهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مَشْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ قَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ فَقُلْتُ لَهَا، أَنَا مِنْ بَيْنَ نِسَائِهِ: خَصَّكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا: عَمَّا سَارَّكِ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِيَ قُلْتَ لَهَا: عَزَمْتُ عَلَيْكِ، بَمَا لِي عَلَيْكِ مَنَ الْحَقِّ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي قَالَتْ: أَمَّا الآنَ، فَنَعَمْ فَأَخْبَرَتْنِي، قَالَتْ: أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الأَمْرِ الأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي: أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ، الْعَامَ، مَرَّتَيْنِ، وَلاَ أَرَى الأَجَلَ إِلاَّ قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ، قَالَ: يَا فَاطِمَةُ أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هذِهِ الأُمَّةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواجِ مطہرات (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی (بلکہ بہت ہی مشابہ تھی)، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”بیٹی! «مَرْحَبًا» ”خوش آمدید““ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا: ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال انہوں نے مجھ سے دو مرتبہ دور کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں“۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 43 باب من ناجى بين يدي الناس ومن لم يخبر بسر صاحبه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1593 in Urdu