اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
843. باب من فضائل غفار وأسلم وجهينة وأشجع ومزينة وتميم ودوس وطيء
باب: غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طیئی قبائل کے فضائل
حدیث نمبر: 1641
1641 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلاَثٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: هُمْ أَشَدُّ أَمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا وَكَانَتْ سَبيَّة مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین باتوں کی وجہ سے جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: ”یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت ثابت ہوں گے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک مرتبہ) بنو تمیم کے یہاں سے زکات (وصول ہو کر آئی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ہماری قوم کی زکات ہے۔“ بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے کہ یہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1641]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 13 باب من ملك من العرب رقيقًا فوهب وباع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1641 in Urdu