اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
852. باب بِرِّ الوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ
باب: والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کا بیان اور وہ اس کے زیادہ حق دار ہیں
حدیث نمبر: 1652
1652 صحيح حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ الله! مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمُّكَ» قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ «ثُمَّ أَبُوكَ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں ہے۔“ انہوں نے پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں ہے۔“ انہوں نے پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں ہے۔“ انہوں نے پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہارا باپ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 2 باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1652 in Urdu