🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب نجاسة الدم وكيفية غسله
باب: خون کی نجسات اور اس کے دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 166
166 صحيح حديث أَسْماءَ قَالَتْ: جَاءتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ: تَحُتُّهُ ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ وَتَنْضَحُهُ ثُمَّ تُصَلي فِيهِ
راویِ حدیث: سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابتدا میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔ «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ کے لقب سے معروف ہیں۔ ہجرت کے وقت حاملہ تھیں، اسی بطن سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تھے۔ اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی تھی کہ اے بیٹے عزت کی زندگی گزارو اور عزت کی موت مرو اور دشمن تمہیں قیدی نہ بنا سکے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت سے دس یا بیس دن بعد سو برس کی عمر میں 73 ہجری کو مکہ میں وفات پائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاری فی: ۴۔ کتاب الوضوء: ۶۳۔ باب غسل الدم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 166 in Urdu