اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
912. باب قوله تعالى إِن الحسنات يذهبن السيئات
باب: ’’فرمان الٰہی نیکیوں سے برائیاں ختم ہو جاتی ہیں‘‘
حدیث نمبر: 1759
1759 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاَةَ، قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ قَالَ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ: نعمْ قَالَ: فَإِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ (أَوْ قَالَ) حَدَّكَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا، یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ مجھ پر حد جاری کیجیے۔ بیان کیا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ نہیں پوچھا یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو پھر وہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا، یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجیے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا، ہاں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا۔“ یا فرمایا کہ ”تیری غلطی یا حد (معاف کر دی)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 86 كتاب الحدود: 27 باب إذا أقر بالحد ولم يبين هل للإمام أن يستر عليه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1759 in Urdu