🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
940. باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء
باب: ظالم اور جابر لوگ آگ میں جائیں گے اور کمزور لوگ جنت میں جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1815
1815 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا) انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ وَذَكَرَ النِّسَاءَ فَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ، يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، وَقَالَ لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ
سیدنا عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ [سورة الشمس: 12] یعنی اس اونٹنی کو مار ڈالنے کے لیے ایک مفسد بدبخت (قدار نامی) جو اپنی قوم میں ابوزمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا، اٹھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا: ”تم میں سے بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں، حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہم بستری بھی کرتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہوا خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”ایک کام جو تم میں سے ہر شخص کرتا ہے، اسی پر تم دوسروں پر کس طرح ہنستے ہو؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 91 سورة والشمس: 1 باب حدثنا موسى بن إسماعيل»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ م المومنین حضرت سودہ کے بھائی تھے۔ ان کا شمار اہل مدینہ میںہوتا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن وفات پائی۔ ان سے عروۃ بن زبیر روایت کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1815 in Urdu