🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة
باب: غسل جنابت میں کتنا پانی لینا بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
185 صحيح حديث عَائِشَة سَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوٍ مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا؛ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ (قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ)
ابو سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی (سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما) نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا، پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا، اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 3 باب الغسل بالصاع ونحوه»
وضاحت: یہ سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے رضاعی بھانجے تھے۔ اور آپ کے محرم تھے۔ ابو سلمہ سیّدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ام المومنین کے پاس گئے تو انہوں نے پردہ سے غسل فرما کر ان کو طریقہ غسل کی تعلیم فرمائی۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 185 in Urdu