🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
963. باب الزهد والرقائق
باب: دنیا سے نفرت دلانے اور دل کو نرم کرنے والی احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1866
1866 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلاَءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَتْ صَلاَةَ الصُّبْحِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ رَآهُمْ وَقَالَ: أَظُنُّكُم قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ بِشَيْءٍ قَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَأَبْشِروا وَأَمِّلوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللهِ لاَ الْفَقْرَ أَخْشى عَلَيْكُمْ، وَلكِنْ أَخْشى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنی عامر بن لؤی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے لوگوں سے صلح کی تھی اور ان پر سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو حاکم بنایا تھا۔ جب سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار کو معلوم ہو گیا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں۔ چنانچہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں خوشخبری ہو، اور اس چیز کے لیے تم پر امید ہو جس سے تمہیں خوشی ہوگی، لیکن اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا کہ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دیے گئے تھے، تو ایسا نہ ہو کہ تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سے جلنے لگو اور یہ جلنا تم کو بھی اسی طرح تباہ کر دے جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 58 كتاب الجزية: 1 باب الجزية والموادعة مع أهل الحرب»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عمرو بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ ابن اسحاق کے بقول سہیل بن عمرو عامری کے آزاد کردہ ہیں۔ مدینہ میں رہے۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1866 in Urdu