اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
963. باب الزهد والرقائق
باب: دنیا سے نفرت دلانے اور دل کو نرم کرنے والی احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1873
1873 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ: ابْنَ أُخْتِي إِنْ كُنَّا لَنَنْظرُ إِلَى الْهِلاَلِ ثُمَّ الْهِلاَلِ، ثَلاَثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَار (قَالَ عُرْوَةُ) فَقُلْتُ: يَا خَالةُ مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ قَالَتِ: الأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلاَّ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ، كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ، وَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهِمْ فَيَسْقِينَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: ”میرے بھانجے! آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں (یہ حال تھا کہ) ہم ایک چاند دیکھتے، پھر دوسرا دیکھتے، پھر تیسرا دیکھتے، اسی طرح دو دو مہینے گزر جاتے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں کھانا پکانے کے لیے آگ نہ جلتی تھی۔“ (سیدنا عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں) میں نے پوچھا: ”خالہ اماں! پھر آپ لوگ زندہ کس طرح رہتی تھیں؟“ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”صرف دو کالی چیزوں کھجور اور پانی پر، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند انصاری پڑوسی تھے، جن کے پاس دودھ دینے والی بکریاں تھیں اور وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بھی ان کا دودھ تحفہ کے طور پر پہنچا دیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہمیں بھی پلا دیا کرتے تھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1873]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 1 باب الهبة وفضلها والتحريض عليها»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1873 in Urdu