اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
103. باب المستحاضة وغسلها وصلاتها
باب: مستحاضہ کا بیان اور اس کے غسل اور نماز کا حال
حدیث نمبر: 190
190 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، فَلاَ أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلاَةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاَةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے، اس لیے میں پاک نہیں رہتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں، تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے (بدن اور کپڑے) سے خون کو دھو ڈال، پھر نماز پڑھ، پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہی (حیض کا) وقت پھر آ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: كتاب الوضوء: 63 باب غسل الدم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 190 in Urdu