اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب تستر المغتسل بثوب ونحوه
باب: غسل کرنے والا کپڑے وغیرہ کی آڑ کرے
حدیث نمبر: 193
193 صحيح حديث أُمِّ هَانِىءٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبِ، قَالَتْ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، قَالَتْ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ؛ فَقَالَ: مَنْ هذِهِ فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِىءٍ بِنْتُ أَبي طَالِبٍ؛ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِىءٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلاً قَدْ أَجَرْتُهُ، فُلاَنَ بْنَ هُبَيْرَةَ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِىءٍ، قَالَتْ أُمُّ هَانِىءٍ: وَذَاكَ ضُحًى
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کیے ہوئے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے بتایا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی آئی ہو (خوش آمدید) ام ہانی!“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہانے سے فارغ ہو گئے تو اٹھے اور آٹھ رکعت نماز پڑھی ایک ہی کپڑے کو لپیٹ کر، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک شخص کو ضرور قتل کرے گا حالانکہ میں نے اسے پناہ دے رکھی ہے، یہ (میرے خاوند) ہبیرہ کا فلاں بیٹا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی! جسے تم نے پناہ دے دی ہم نے بھی اسے پناہ دی۔“ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ نماز چاشت تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 4 باب الصلاة في الثوب الواحد ملتحفًا به»
وضاحت: راوي حدیث: سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب عبد مناف رضی اللہ عنہا سیّدنا علی و سیّدنا جعفر رضی اللہ عنہما کی بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ جب مکہ فتح ہوا تو ان کا خاوند ہبیرہ نجران کی طرف دوڑ گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں آٹھ رکعت نماز چاشت ادا کی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 193 in Urdu